اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یمن کے شیعہ مجاہدین نے الزام لگایا ہے کہ سعودی حکمران یمنی حکمرانوں کے ساتھ بدستور تعاون کررہے ہیں اور یمنی افواج سعودی عرب کی سرزمین استعمال کرکے مجاہدین پر حملے کررہی ہیں۔
کل (منگل کو) شائع ہونے والے الحوثی مجاہدین کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی حکومت یمنی افواج کو جبل الدخان کے فوجی اڈے کو مجاہدین پر حملوں کے لئے استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔
اس بیان میں کہا گیا ہے: "ہم سعودی حکمرانوں کو خبردار کرتے ہیں کہ غیرجانبدار رہے اور یمنی افواج کو اپنی سرزمین شیعہ مجاہدین کے خلاف استعمال نہ کرنے دے ورنہ ہم بھی بامر مجبوری انتقامی کاروائیاں کریں گے۔
اس بیان میں سعودی عرب کی طرف سے یمنی افواج کی مدد کو ایک شرمناک جارحیت اور خطرناک مداخلت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
دریں اثناء یمن کی خانہ جنگی چوتھے مہینے میں داخل ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود یمن کے داخلی امور میں سعودی عرب کی مداخلت کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آرہےہیں۔
الحوثی مجاہدین نے کہا ہےکہ ریاض نے یمنی فوج کوالحوثی مجاہدین کے ٹھکانوں پرحملے کرنے کےلئے اپنی سرزمیں استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے اسی بنا پر حوثی مجاہدین نے خبردار کیا ہےکہ اگر سعودی عرب خود کو غیر جانبدار ثابت کرنے میں ناکام رہتاہے تو وہ سعودی عرب سے انتقام لیں گے اور یہ ان کا حق ہے کہ حملے کی صورت میں اپنا دفاع کریں۔
ادھر یمن کے ایک سیاسی رہنما سیف علی الوشلی نے کہا ہے کہ سعودی عرب حوثی گروہ کے خلاف یمن کی فوج کی مدد کررہا ہے ، اور سعودی عرب کا یہ اقدام یمن کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی ہے ۔
الوشلی نے صوبہ صعدہ کے حالیہ واقعات کو یمن اور سعودی عرب کی ہماہنگی کانتیجہ قراردیا اور کہا کہ یمن کی حکومت شمالی علاقوں کو شیعہ آبادی سے خالی کرانے کی مذموم پالیسی پرعمل پیرا ہے ۔
اطلاعات ہیں کہ یمن کی حکومت اور الحوثی مجاہدین کے مابین صلح ہونے کے امکانات نمودار ہونے لگے ہیں اور یہ امید کی جارہی ہے کہ شمالی علاقوں میں جھڑپیں رک جائیں گی ۔
یادرہے شمالی علاقوں پر یمنی فوج کےحملوں میں لاکھوں افراد بے گھر اور سینکڑوں شہید ہوگئے ہیں۔